نئی دہلی،11؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کیا عام آدمی پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات 2019 میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کرے گی؟ یہ سوال ایک بار پھر اٹھنا شروع ہو گیا ہے کیونکہ ڈی ایم لیڈر ایم کے اسٹالن نے دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال سے پیر کوملاقات کی۔ذرائع کے مطابق اسٹالن نے کیجریوال سے کہا کہ آپ کانگریس کے تئیں کوئی منفی رویہ نہ رکھیں۔آج ملک کو مہاگٹھ بندھن کی ضرورت ہے اور اس مہاگٹھ بندھن میں آپ کا کردار اہم ہے۔اس سے پہلے اتوار کی شام ایم کے اسٹالن کانگریس صدر راہل گاندھی سے بھی ملے تھے۔عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کی بحث چند ماہ پہلے بھی شہ سرخیوں میں آئی تھی لیکن دہلی کانگریس صدر اجے ماکن نے اس کی پرزور تردید کی تھی۔یہی نہیں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تعلقات میں تلخی اس وقت زیادہ بڑھ گئی تھی جب اگست مہینے میں دہلی کے جنتر منتر پر راشٹریہ جنتا دل نے ایک احتجاج کا انعقاد کیا اور کانگریس نے یہ شرط رکھی کہ راہل گاندھی اروند کیجریوال کے ساتھ اسٹیج پر نہیں آئیں گے۔ اسی و جہ سے اروند کیجریوال کے تقریر کرنے کے ایک گھنٹے بعد راہل گاندھی اسٹیج پر آئے۔ اس واقعہ سے عام آدمی پارٹی رہنماؤں چوٹ لگی اور انہوں نے طے کر لیا کی نائب صدر کے انتخابات میں جب تک خود راہل گاندھی عام آدمی پارٹی کی حمایت نہیں مانگیں گے اس وقت تک عام آدمی پارٹی کانگریس امیدوار کی حمایت نہیں کرے گی۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے حمایت کے لئے کیجریوال سے بات نہیں کی لہٰذا عام آدمی پارٹی نے نائب صدر کے انتخاب سے باہر رہنے کا فیصلہ کر لیا۔عام آدمی پارٹی دہلی میں اس وقت اقتدار میں ہیں۔عام آدمی پارٹی کا ووٹ بینک بھی وہی ہے جو کانگریس کا ہوا کرتا تھا۔ایسے میں سیاسی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ اگر عام آدمی پارٹی اور کانگریس لوک سبھا کے انتخابات میں مل کرلڑیں گے تو ووٹوں کا بٹوارہ نہیں ہوگا۔آپ اور کانگریس دونوں کو فائدہ ہوگا بی جے پی دہلی میں اچھی کارکردگی نہیں کر پائے گی۔لیکن یہ کہانی اتنی آسان نہیں ہے۔کیونکہ بات یہ اٹھتی ہے کہ دہلی لوک سبھا کی سات سیٹ ہیں اور یہاں عام آدمی پارٹی اقتدار میں ہے۔اگر وہ کانگریس کو اتحاد کے تحت سیٹ دیتی ہے تو پھر پنجاب میں بھی عام آدمی پارٹی کانگریس سے سیٹیں مانگے گی کیونکہ کانگریس پنجاب میں اقتدار میں ہیں۔پنجاب میں لوک سبھا کی کل 13 نشستیں ہیں جس میں اب بھی 5 سیٹ کانگریس اور 4 سیٹ آپ کے پاس ہیں۔کیا کانگریس پنجاب میں کانگریس کے لئے نشستیں دینے کو تیار ہوگی؟